30 اگست 2018 - 16:52
علامہ ساجد علی نقوی کا عید غدیر پر تہنیتی پیغام

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یوم غدیر کی بابرکت ساعتوں میں ہمیں اس عہد کی تجدید کرنا ہوگی کہ دین حق کی سربلندی اور ترویج اور امام برحق حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کے سیرت و کردار کو نمونہ عمل بناتے ہوئے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ”یوم غدیر“ کی مناسبت سے عالم اسلام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ یوم غدیر جہاں تکمیل دین کی سند کے طور پر اور امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کی ولایت کے اعلان کے طور پر تاریخ اسلام میںبے پناہ اہمیت رکھتا ہے وہیں امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ نے پیغمبر گرامی کے جانشین کے طور پر بعد از پیغمبر بیک وقت تطہیر نفس اور تطہیر نظام کی طرح ڈالی اور اسے عملی طور پر ثابت کردکھایا۔ آپ ؑ نے تطہیر نفس کے لئے تقوی‘ شب بیداری‘ عبادت‘ حسن سلوک‘ عاجزی‘ انکساری اور تواضع جیسی صفات اختیار کیں جبکہ تطہیر نظام و معاشرہ کے لئے عدل و انصاف‘ اعتدال‘ توازن‘ حقوق کا حصول اور اسلامی نظام حیات کے نفاذ کے لئے بھرپور عملی اقدامات اٹھائے یہی وجہ ہے کہ آپ کے اندر ذاتی اور اجتماعی رہنمائی کے لئے تمام خصوصیات اور شرائط موجود تھیں جس سے ایک عام انسان سے لے کر دنیا پر حکمرانی کرنے کے خواہش مند شخص کے لئے مکمل استفادے کا سامان موجود ہے اور آپ کی سیرت و کردار اور عمل اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔علامہ ساجد نقوی کہنا تھا کہ جس دین کامل کو خدا کے نزدیک پسندیدہ ترین دین قرار دیا گیا ہو اور جس کی ترویج و اشاعت کے لئے رحمت اللعالمین جیسی ہستی نے تکالیف اور مصائب برداشت کئے ہوں ‘ حج بیت اللہ کے بعد غدیر جیسے تاریخی میدان میں اس کی تکمیل کازبان وحی سے اعلان غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اورعالم انسانیت کو اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ جلد یا بدیر بالاخر دنیائے عالم کو دین حق کی جانب ہی رخ کرنا پڑے گا کیونکہ دین اسلام ہی بالاخر انسان کی دنیوی و اخروی فلاح او ر نجات کا ضامن ہے۔قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یوم غدیر کی بابرکت ساعتوں میں ہمیں اس عہد کی تجدید کرنا ہوگی کہ دین حق کی سربلندی اور ترویج اور امام برحق حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کے سیرت و کردار کو نمونہ عمل بناتے ہوئے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں گے۔             

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲